نئی دہلی ،17؍ ستمبر (ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا) راجیو گاندھی کے قتل کے دوران ہلاک ہوئے کچھ لوگوں کے رشتہ داروں نے آج سپریم کورٹ میں درخواست دائر کر قاتلوں کی رہائی کولے کر حالیہ حکم پر اعتراض ظاہر کیا ہے۔ درخواست دہندگان نے اپنا موقف سنے جانے کا مطالبہ کیا۔ سپریم کورٹ نے ان درخواست دہندگان سے ترمیم شدہ عرضی دائر کرنے کی ہدایت دی ہے۔ عدالت نے 3 ہفتوں کے اندر ترمیم شدہ درخواست داخل کرنے کی ہدایت دی۔ عدالت اس عرضی پر تین ہفتے بعد سماعت کرے گی۔ گذشتہ6 ستمبر کوسپریم کورٹ نے حکم دیا تھا کہ تمل ناڈو حکومت رہائی کی سفارش گورنر کو بھیج سکتی ہے۔ سپریم کورٹ نے کہا تھا کہ تمل ناڈو حکومت کو راجیو گاندھی کے قاتلوں کی رہائی کے مطالبے پر غور کرنے کا حق ہے۔ وہ گورنر کو رہائی کی سفارش بھیج سکتے ہیں۔ پھر گورنر چاہیں تورہائی کا حکم دے سکتے ہیں۔ مرکز کی دلیل تھی کہ اس کی منظوری کے بغیر رہائی نہیں ہو سکتی۔ سپریم کورٹ نے مرکز کی اس درخواست کومسترد کردیاتھا۔مرکزی حکومت نے حلف نامہ داخل کر کہا تھا کہ قتل کے ساتھ قصورواروں کو رہا کرنے کی تمل ناڈو حکومت کی مانگ کو صدر نے مسترد کر دیا ہے۔ مرکزی حکومت نے کہا تھا کہ آنجہانی راجیو گاندھی کے قتل کے مجرموں کی رہائی سے ایک خطرناک روایت کا جنم ہوگا۔مرکزنے حلف نامہ میں کہا تھا کہ عدلیہ اورانتظامیہ نے سوچ سمجھ کر فیصلہ کیا ہے۔ مرکزنے کہا تھا کہ اس کابین الاقوامی سطح پر غلط پیغام جائے گا۔ اس معاملے پر سماعت کرتے ہوئے سپریم کورٹ نے مرکزی حکومت سے پوچھا تھا کہ کیا قتل کے سات مجرموں کو رہا کیا جا سکتا ہے؟عدالت نے مرکزی حکومت کو تمل ناڈو حکومت کے مئی 2016 کے خط کاجواب دینے کی ہدایت دی تھی۔ اس مکتوب میں تمل ناڈوحکومت نے مرکزی حکومت کوخط لکھ کر راجیوگاندھی کے قتل کے قصورواروں کو رہا کرنے کی سفارش کی تھی۔